کے پاس ایک آتَش پَرَسْت کپڑے سِلواتا اور ہر بار اُجرت میں کھوٹا سکّہ دے جاتا ، آپ اُس کو لے لیتے ۔ ایک بار آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی غیر موجودگی میں شاگِرد نے آتَش پَرَست سے کھوٹا سِکّہ نہ لیا ۔ جب حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابو عَبُداللّٰہ خَیّاط رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ واپس تشریف لائے اور اُن کو یہ معلوم ہوا تو آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے شاگِرد سے فرمایا : تُو نے کھوٹا دِرہم کیوں نہیں لیا؟ کئی سال سے وہ مجھے کھوٹا سِکّہ ہی دیتا رہا ہے اور میں بھی چُپ چاپ لے لیتا ہوں تاکہ یہ کسی دُوسرے کو نہ دے آئے ۔ (1)
قمیص میں دھاتی بٹن لگانا اورگلے میں اِنچی ٹیپ لٹکاناکیسا؟
سوال : قمیص میں کسی دَھات (Metal) کے بٹن لگانا اور گلے میں فیتہ (InchiTape) لٹکاناجائز ہے ؟
جواب : قمیص میں سونے ، چاندی یا ریشم کے بٹن لگانا جائز ہے جبکہ یہ بٹن زنجیر سے بندھے ہوئے نہ ہوں جیساکہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن دُرِّمختار کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں : ریشم اور سونے کے بٹن میں کچھ حَرج نہیں ۔ (2) دَھات (Metal) کے بٹن بھی عُلَمائے کِرام کی تصریحات کے پیشِ نظر جائز ہونے چاہییں ۔ (3) رہی بات فیتہ (Inchi Tape) گلے میں ڈالنے کی
________________________________
1 - احیاء العلوم ، کتاب الریاضة النفس وتھذیب الاخلاق ، باب علامات حسن الخلق ، ۳ / ۸۷ دار صادر بیروت
2 - فتاویٰ رضویہ ، ۲۲ / ۱۱۷
3 - فتاویٰ اہلسنت غیرمطبوعہ