اَمانت میں خِیانت کرنا مسلمان کی شان نہیں بلکہ منافقین کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے ۔ چنانچہ نبیٔ کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : منافق کی تین نشانیاں ہیں : (۱) جب بات کرے جھوٹ بولے (۲) جب وعدہ کرے وعدہ خلافی کرے (۳) جب اس کے پاس اَمانت رکھی جائے تو خِیانت کرے ۔ (1)
جو دُکانیں خِیانت سے چمکائیں گے !
کیا انہیں زَر کے اَنبار کام آئیں گے ؟
قہرِ قَہّار سے کیا بچا پائیں گے ؟
جی نہیں نار ِ دوزخ میں لے جائیں گے (وسائلِ بخشش)
ذاتی نقصان بَرداشت ہے مگر کسی اور کا نقصان گوارا نہیں
دَرزیوں کو چاہئے کہ وہ خِیانت کرنے اور اپنے مسلمان بھائیوں کو دھوکا دینے سے بچیں ۔ ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین کی تو یہ مَدَنی سوچ ہوا کرتی تھی اور ان کے دِلوں میں اِحترامِ مسلم کاایساجذبہ ہوتا تھا کہ وہ خوداپناذاتی نقصان تو بَرداشت کر لیتے لیکن کسی مسلمان کانقصان گوارا نہ کرتے اس بات کا اَندازہ اس حکایت سے لگائیے ۔ چنانچہ حُجَّۃُالْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْوَالِینقل فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابو عبدُ اللّٰہ خَیّاط رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
________________________________
1 - بخاری ، کتاب الایمان ، باب علامة المنافق ، ۱ / ۲۴ ، حدیث : ۳۳