Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
36 - 81
ہے کہ بقیہ ٹکڑے  رکھ لئے جاتے ہیں اس کے باوجود وہ خاموش رہتاہے تو یہ دَلالۃً اِجازت سمجھی جاتی ہے کیونکہ اگراِجازت نہ ہوتی تو وہ اس کا مُطالبہ کرتا ۔ 
یہاں یہ بات ذہن نشین کر لیجئے کہ اِجازت صَراحۃً یا دَلالۃً سیٹھ  ہی کی طرف سے ہو ۔  عام طور پر سیٹھ خود نہیں آتا بلکہ کسی نوکر کوبھیج دیتا ہے ۔ نوکر اگر کہے کہ رکھ لو تو اس کا یہ  کہنا کافی نہ ہوگا کیونکہ نوکر کی جیب سے کچھ نہیں جاتا لہٰذا سیٹھ ہی سے رابطہ کرنا ہوگا نیز آرڈر کے بعد بڑے ٹکڑوں  کا بچنا بھی سیٹھ کے علم میں ہو کیونکہ عموماً چھوٹے ٹکڑوں کا تو اسے علم ہوتا ہے اور اس نے  پہلے سے اِجازت دے دی ہو تو وہ بھی چھوٹے ٹکڑوں  ہی کی اِجازت ہو گی لہٰذا بڑے ٹکڑوں یا تھان بچنے کی صورت میں نئے سرے سے اِجازت دَرکار ہوگی جس میں بڑے ٹکڑوں  یا تھانوں کی صَراحت ہو وَرنہ یہ  مالک کو واپس کرنا ہوں گے  ۔ 
 دیکھا گیا ہے کہ گارمنٹس کی فیکٹریوں سے ایسے بڑے بڑے ٹکڑوں کی گانٹھیں نکلتی ہیں جوبچوں کے سُوٹ بنانے والوں کو مہیا (Supply) کی جاتی ہیں اور ان  سے خاطر خواہ رقم  ہاتھ آتی ہے  ۔ اس  لحاظ سے  ” آم کے آم ، گٹھلیوں کے  دام“ والے اس  دور میں  جب  کچرا بھی کسی نہ کسی اِستعمال میں لایا جا رہا ہے ، سیٹھ کا  بڑے بڑے قابلِ اِستعمال ٹکڑوں (Cut Pieces) کے حوالے سے کھلی چھٹی دے دینا  سمجھ میں نہیں آتا ۔  ہاں! اگر مالک یہ سب کچھ جاننے کے بعد اِجازت دے دے  تو رکھ لینے میں حَرج نہیں ۔