Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
34 - 81
نہیں  ہونے دیتے کہ کوئی  کاریگر ایسا ناجائز مُطالبہ کرے ۔ جب کارخانے میں گانے بجانے کے لیے  ڈیک ، ٹی وی یا کسی آڈیو یا وڈیو  پلیئر اور سی ڈیز وغیرہ  کا اِنتظام نہ ہو گا تو ” نہ رہے گا بانس ، نہ بجے گی بانسری“اور  اگر اِنتظام تو ہے مگر صرف مَدَنی چینل اور نعت اور بیان وغیرہ کا سِلسلہ ہوتا ہے تو  کا ریگر سیٹھ سے بات کر کے  خود ہی شرمندہ ہوگا کہ کوئی ذِی شعور مسلمان  نعت  اور  بیان وغیرہ کو بند کر کے ان کی جگہ گانے  باجے چلانا گوارا نہیں کرتا ۔  
دوسریبات یہ ہے کہ کسی دوسرے کی وجہ سے  گناہ کا اِرتکاب کرنا اور ان سب کا گناہ  اپنے سر لینا یقیناً بہت بڑی نادانی ہے ۔ ہاں! اگر کوئی  کاریگر گانوں کا رَسیا ہے تو اس پر اِنفرادی کوشش کر کے اس کی اِصلاح کر دیں  ۔ اس کے لیے سیٹھ کا خود اپنا مَدَنی ذہن ہو گا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ معاملات جلد دُرُست ہو جائیں گے  کیونکہ عموماً  کاریگر خود آلات لہو و لعب اپنے ساتھ نہیں لاتے بلکہ پہلے سے جاری نظام کے تحت کارخانے میں موجود ہوتے ہیں  جس کی وجہ سے مُعاملہ جُوں کا توں چلتا رہتاہے وَرنہ کاریگروں میں اتنی مجال نہیں ہوتی کہ کسی سیٹھ کو غَلَط کام پر مجبور کریں اور وہ ان کے سامنے بے چارہ بے بس ہو کر رہ جائے ۔  
میں گانے باجوں اور فلموں ڈراموں کے گنہ چھوڑوں
                    پڑھوں نعتیں کروں اکثر تلاوت یَارَسُوْلَ اللّٰہ	 (وسائلِ  بخشش)