پاتے ہیں ۔ چنانچہ خُدائے رَحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِؕ-اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ (۲۸) (پ۱۳ ، الرعد : ۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان : وہ جو ایمان لائے اور ان کے دِل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سُن لو اللہ کی یاد ہی میں دِلوں کا چین ہے ۔
معلوم ہواکہ گانے باجے اور موسیقی نہ تو رُوح کی غِذا ہے اور نہ ہی اس سے قرار حاصِل ہوتا ہے ۔ مسلمان کا دِل بہلانے اور اِطمینان پانے کے لیے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکر ہے لہٰذااپنے دِل کو ذِکرُ اللّٰہ سے بہلائیں یا نعت شریف کی کیسٹیں چلائیں اور ہرحال میں اپنے آپ کو گانے سننے سے بچائیں کہ رَحمتِ دَارین ، سرورِ کَونَین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ باعثِ چین ہے : گانا دِل میں ایسے نفاق پیداکرتاہے جیسے پانی کھیتی اُگاتاہے اور ذِکر دِل میں ایسے اِیمان پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی اُگاتاہے ۔ (1)
رہی بات سیٹھ کی جو بے چارہ خود تو گانے باجے سننے کا عادی نہیں البتہ اپنے کاریگروں کی وجہ سے گانے باجے چلانے پر مجبور ہوجاتا ہے تو اس مسئلے کا لَایَنْحَل (Unsolved) ہونا سمجھ میں نہیں آتا ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سمجھدار اور مَدَنی ذہن رکھنے والے اسلامی بھائی اپنے کارخانوں میں ایسا ماحول پیدا ہی
________________________________
1 - سنن کبری للبیھقی ، کتاب الشھادات ، باب الرجل یغنی...الخ ، ۱۰ / ۳۷۷ ، حدیث : ۲۱۰۰۷ دار الکتب العلمية بیروت