فرماتے ہیں : وَدیعت رکھنے والا غائب ہو گیا ، معلوم نہیں زندہ ہے یا مَرگیا تو وَدیعت کو محفوظ ہی رکھنا ہو گا ، جب موت کا علم ہو جائے اور وُرَثہ بھی معلوم ہیں ، وُرَثہ کو دے دے ، معلوم نہ ہونے کی صورت میں وَدیعت کو صَدقہ نہیں کر سکتا اور لُقطہ میں مالک کا پتا نہ چلے تو صَدقہ کرنے کا حکم ہے ۔ (1) لہٰذا مشورہ یہ ہے کہ جس سے کپڑے لیں تو اس کا فون نمبر اور پتہ وغیرہ بھی نوٹ کر لیں تاکہ تاخیر کی صورت میں پہنچایا جا سکے ۔
بوریت دُور کرنے کے لیے گانے سُننا کیسا؟
سوال : بعض دَرزی پیشہ لوگ کام کے دَوران بوریت اور سُستی دور کرنے اور اپنے دِل کو بہلانے ، سُکون پانے کے لیے گانے باجے چلاتے ہیں کہ یہ رُوح کی غذا ہے ، تو کیایہ دُرُست ہے ؟اِسی طرح بعض دُکانوں میں گانے نہ چلائے جائیں تو کاریگر کام ہی نہیں کرتے ، اِس وجہ سے سیٹھ گانے چلانے پر مجبور ہوجاتا ہے ، اس کا حل اِرشاد فرما دیجیے ۔
جواب : بوریت ہو یا کچھ اور ، گانے باجے سُننا حرام اورجہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ گانے باجوں سے نہ تو اِطمینانِ قلب حاصِل ہوتا ہے اور نہ ہی یہ رُوح کی غِذا ہیں ۔ ہاں! گندی و خبیث رُوحوں کی غِذا ہوں تو یہ الگ بات ہے مگر اہلِ اِیمان کی پاکیزہ رُوحوں کی غِذا تو اللہ پاک کا ذِکر ہے اِسی سے ان کے دِل چین
________________________________
1 - بہارِ شریعت ، ۳ / ۳۸ ، حصہ : ۱۴