کے بعد ان کی ذِمَّہ داری ختم ہو جاتی ہے ؟
جواب : دَرزی کو جوکپڑے سینے کے لیے دیئے جاتے ہیں وہ اس کے پاس وَدیعت یعنی اَمانت ہوتے ہیں اور وَدیعت کا حکم یہ ہے کہ اس کی حفاظت کی جائے گی تاوقتیکہ مالک کے حوالے کر دی جائے اور مالک فوت ہوجائے تو اس کے وُرَثاءکے حوالے کی جائے گی اور اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ملے تو تب بھی بطورِ وَدیعت اپنے پاس محفوظ رکھے گایہاں تک کہ اگر دَرزی نے جان بوجھ کر اسے ضائع کر دیا تو اس پر ضَمان (تاوان) لازم ہوگا ۔ دَرزی ، دھوبی یا دِیگر پیشہ ور حضرات اگرچہ اپنی رسیدوں پر لکھوا بھی دیں کہ’’اپنا سامان مقررہ مدت تک لے جائیں ، تین ماہ کے بعد ہماری کوئی ذِمَّہ داری نہ ہوگی ۔ ‘‘تب بھی وہ ذِمَّہ دار رہیں گے ، تین ماہ کیا بالفرض تین سو سال کے بعد بھی مالک لوٹ آئے تو اسے اس کی اَمانت واپس کرنا ہو گی ۔ دَرزی حضرات سوچیں گے کہ وہ تین سو سال تک کیسے زندہ رہ سکتے ہیں تو عرض ہے کہ ان کے بعد وہ شے ان کی اولاد کے پاس اَمانت رہے گی اور ان کے بعد ان کی اولاد کے پاس عَلٰی ہٰذَا الْقیاسحتّٰی کہ وہ شے اصل مالک یا اس کے وُرَثا کے پاس پہنچ جائے ۔ وَدیعت کو صَدقہ بھی نہیں کیا جا سکتا لہٰذا ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ تین ماہ بعد کوئی اس شے کو غائب کر دے یا ہڑپ کر جائے کہ ایسا کرنے والا یقیناً خیانت کا مُرتکب ہوگا ۔ صَدرُ الشَّریعہ ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی