Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
30 - 81
بہرحال  اگر ہمیں  زبان کا قفلِ مدینہ لگانا نصیب ہوجائے تو بہت ساری آفتوں سے نجات مل سکتی ہے ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  عاشقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائی زبان کاقفلِ مدینہ لگاتے بلکہ  ” یوم قفلِ مدینہ“بھی مَناتے ہیں ۔ آپ بھی ہر مَدَنی ماہ کی پہلی پیر کودعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رِسالے  ” خاموش شہزادہ “ کا مُطالعہ  کیجئے  اور بُری باتوں سے تو ہمیشہ  بچنا ہی  چاہیے ، اِس کے ساتھ ساتھ فضول باتوں سے بھی بچ کر  ” یومِ قفلِ مدینہ“منائیے مگر قفلِ مدینہ کا یہ مطلب ہر گز  نہیں کہ جائز بات بھی نہ کی جائے  جیسے کسی نے سلام کیا  یا چھینک کے بعد ” اَلْحَمْدُ لِلّٰہ“ کہا یااذان کی آواز  سنائی دی  تو ان کا جواب دیا جائے گا حتّٰی کہ جن چیزوں کا جواب دینا واجب ہے تو ان کا  جواب نہ دینے کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے ۔ زبان کے  قفلِ مدینہ کا مقصد  اپنی  زبان کو فضول باتوں سے روکنا ہے کہ فضول گوئی سے خاموشی بہتر ہے اور نیکی  کی دعوت وغیرہ دینا خاموشی سے بہتر ہے ۔ 
زَبان اور آنکھوں کا قفلِ مدینہ
                                 عطا ہو پئے مصطفے ٰ یاالٰہی	 (وسائلِ  بخشش) 
رَسید پر لکھی ہوئی تحریر کا حکم
سوال :  اکثر دَرزیوں کی رَسید پر لکھا  ہوتا ہے کہ ’’تین ماہ کے اندر اندر اپنا سوٹ لے جائیں ورنہ ہماری ذِمَّہ داری نہیں ہوگی ۔ ‘‘کیا اِس طرح  لکھ دینے سے  تین ماہ