بدگمانیوں کا اِرتکاب کر ڈالا ہو ۔ اِن سب باتوں سے بچنے کے لیے علمِ دِین حاصِل کرنا ضَروری ہے ۔ ہمارے مُعاشرے کے تقریباً تمام شُعبہ جات میں خریداری کے وقت بھاؤ کم کروانے کو بہت معیوب اور خِلافِ مُرَوَّت خیال کیا جاتا ہے اور بعض اوقات گاہک کو خوب بُرا بھلا بھی کہا جاتا ہے اور اس کی خوب غیبت کی جاتی ہے ۔ اگر گاہک مُنہ مانگی رقم دے کر چلا جائے تب بھی غیبت کریں گے ، بولیں گے کہ ” کتنا بیوقوف ہے ، جو مانگا دے کر چلا گیا ، یہ دُنیا میں کیسے کامیاب ہوگا“ وغیرہ وغیرہ ، یہ سب غیبت ہی کی صورتیں ہیں ۔
بعضاوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ گاہک کے جانے کے بعددَرزی اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے : اس نے جیسے تیسے اُجرت تو کم کروا لی مگر پیسے نکالنا ہم بھی جانتے ہیں ۔ اب وہ اُجرت والی کمی پوری کرنے کے لیے کبھی غیر مُناسب سِلائی کرتا ہے تو کبھی اَدھورا کام کرتا ہے یا خیانت و بَد دِیانتی کرتے ہوئے ناقص میٹریل لگا دیتا ہے حالانکہ وہ گاہک سے پوری اُجرت وُصُول کر چکا ہوتا ہے یا کپڑے واپس دیتے ہوئے وُصُول کرے گا ۔ اللہپاک سب مسلمانوں کو نیک بنائے اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
بدگمانی ، جھوٹ ، غیبت ، چغلیاں
چھوڑ دے تو رب کی نافرمانیاں (وسائلِ بخشش)