طے ہو گئی ۔ عین ممکن ہے کہ گاہک کے جانے کے بعد ایک دَرزی دوسرے درزی کو یا سیٹھ اپنے ماتحت کو بتائے : یار!یہ چمڑا ہے ، بڑی مشکل سے قابو میں آیا ہے ۔ اِس طرح اِس نے دو جملے بول کر گاہک کی غیبت کر دی اور گناہگار ہوا ۔
غیبت و چغلی کی آفت سے بچیں
یہ کرم یا مصطفٰے فرمائیے (وسائلِ بخشش)
بھاؤ کم کروانا سُنَّت ہے
یاد رکھئے ! بھاؤ کم کرانا کوئی معیوب یا خِلافِ مُرَوَّت کام نہیں بلکہ سُنَّت ہے ۔ اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : بھاؤ (میں کمی) کے لئے حجت (بحث وتکرار) کرنا بہتر ہے بلکہ سُنَّت سِوا اس چیز کے جوسفرِ حج کے لئے خریدی جائے ، اس (سفرِ حج کی خریداریوں) میں بہتر یہ ہے کہ جو مانگے دے دے ۔ (1) اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے سفرِ حج کے لئے خریدی جانے والی چیز میں بھاؤ کم نہ کروانے کا جو فرمایا ہے وہ افضل اور بہتر ہے ۔ اگر کوئی اس میں بھی بھاؤ کم کرواتا ہے تو وہ گنہگار نہیں ہے ۔ اب ہوسکتا ہے کہ دَرزی کے پاس آنے والا گاہک اتنا سمجھدا ر اور پرہیزگار آدمی ہو کہ سُنَّت پر عمل کرنے کی نیت سے اس نے بھاؤ کم کروایا ہو اور دَرزی نے ’’یہ چمڑا ہے ، کنجوس ہے ، ہوشیار بنتاہے ‘‘وغیرہ وغیرہ اُلٹی سیدھی باتیں کہہ کر نہ جانے کتنی غیبتوں ، تہمتوں اور
________________________________
1 - فتاویٰ رضویہ ، ۱۷ / ۱۲۸