تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ (۱۲)
تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ۔ (پ۲۶ ، الحجرات : ۱۲)
اگر وہ خامی یا بُرائی جس کوبیان کیا گیا وہ اس کے اندرموجود ہی نہ ہو اور اس دَرزی نے بِلاوجہ اس کی بُرائی کر ڈالی تو یہ بہتان ہے جو غیبت سے بھی بڑا گناہ ہے ۔ چنانچہ سرکارِعالی وقار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم نے اِستفسار فرمایا : کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے ؟ عرض کی گئی : اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں ۔ فرمایا : (غیبت یہ ہے کہ) تم اپنے بھائی کا اِس طرح ذِکر کرو جسے وہ ناپسند کرتا ہے ۔ عرض کی گئی : اگر وہ بات اس میں موجود ہو تو؟فرمایا : جو بات تم کہہ رہے ہو اگر وہ اُس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں نہ ہو تو تم نے اُس پر بہتان باندھا ۔ (1)
یہبھی ہوسکتاہے کہ جس خامی یا بُرائی کو بیان کیا گیا ہو وہ اس سے توبہ کر چکا ہواب اس کے توبہ کرنے کے بعد اس کی بُرائی کو بیان کرنا اور اسے دوسروں کی نظرمیں ذَلیل و رُسوا کرنا یہ بھی گناہ ہے ۔ چنانچہ نبی ٔ اکرم ، نُورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مُعَظَّم ہے : جس نے اپنے بھائی کو ایسے گناہ پر عار دِلائی (یعنی شرمندہ کیا) جس سے وہ توبہ کر چکا ہے ، تو مَرنے سے پہلے وہ خود اس گناہ میں مبتلا ہوجائے گا ۔ (2) ہاں! اگر واقعتاً اس میں ایسی خامی یا بُرائی ہے کہ جس
________________________________
1 - مُسلم ، كتاب البر والصلة والآداب ، باب تحريم الغيبة ، ص۱۰۷۱ ، حدیث : ۶۵۹۳ دار الکتاب العربی بیروت
2 - ترمذی ، کتاب صفة القيامة ، باب (ت : ۱۱۸) ، ۴ / ۲۲۶ ، حدیث : ۲۵۱۳ دارالفکربیروت