کام اسلامی بہنیں خود سیکھ لیں اور اپنے گھروں پر ہی اِس کی تَرکیب بنایا کریں ۔ (۲) اسلامی بہنیں کسی اسلامی بہن ہی سے اپنے کپڑے سِلانے کی تَرکیب بنائیں ۔ (۳) اگر ایسا ممکن نہ ہوتو گھر کی خاتون ناپ لے اور کوئی مَحرم جا کر دَرزی کو سِلوانے کے لیے دے آئے ۔ (۴) یا کوئی پُرانا لباس کسی محرم کے ذَریعے دَرزی کو دے دیا جائے جس کے مُطابق وہ نیا لباس تیار کر دے ۔ اسلامی بہنوں کو چاہیے کہ بات بات پر گھر سے باہَر نہ دوڑتی پھریں ۔ صِرف شَرعی مصلحت کی صورت میں پَردے کی تمام قُیودات کے ساتھ باہَر نکلیں ۔
کریں اسلامی بہنیں شَرعی پَردہ
عطا ان کو حیا شاہِ اُمَم ہو (وسائلِ بخشش)
ایک دَرزی کا دوسرے کی خامیاں بیان کرنا کیسا؟
سوال : کیا ایک دَرزی دوسرے دَرزی کی خامیاں بیان کر سکتا ہے ؟
جواب : جی نہیں ۔ کسی مسلمان کے اندر موجود خامی یا بُرائی کو بِلا اِجازتِ شَرعی پیٹھ پیچھے بیان کرنا ’’غیبت‘‘کہلاتا ہے جوکہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ قرآنِ مجید میں غیبت کرنے کی ممانعت آئی ہے اور یہ مَرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے کے مُترادِف ہے ۔ چنانچہ اِرشادِ ربّ العبادہے :
وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ
ترجمۂ کنز الایمان : اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مَرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ