ہے ۔ چنانچہ نبیوں کے سُلطان ، رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : تین شخص کبھی جنَّت میں داخِل نہ ہوں گے دَیُّوث ، مَردانی وَضع بنانے والی عورت اورشراب نوشی کا عادی ۔ (1)
حدیثِ پاک میں یہ جو فرمایا گیا کہ ” کبھی جنَّت میں داخِل نہ ہوں گے ۔ “ یہاں اِس سے طویل عرصے تک جنَّت میں داخلے سے محرومی مُراد ہے کیونکہ جوبھی مسلمان اپنے گناہوں کی پاداش میں مَعَاذَ اللہ دوزخ میں جائیں گے وہ بالآخر جنَّت میں ضَرور داخِل ہوں گے مگر یا د رہے کہ ایک لمحے کا کروڑواں حصہ بھی جہنم کا عذاب کوئی بَرداشت نہیں کرسکتا لہٰذاہمیں ہردَم ہر گناہ سے بچنے کی کوشش اور جنَّتُ الفردوس میں بے حساب داخلے کی دُعا کرتے رہنا چاہئے ۔ (2)
بڑی کوششیں کی گنہ چھوڑنے کی
رہے آہ! ناکام ہم یاالٰہی
مجھے سچی توبہ کی توفیق ديدے
پئے تاجدارِ حرم یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
اِن قباحتوں سے بچنے کے لیے چند طریقے پیشِ خدمت ہیں : (۱) اِس طرح کے
________________________________
1 - مجمع الزوائد ، کتاب النکاح ، باب فیمن یرضی لاھله بالخبث ، ۴ / ۵۹۹ ، حدیث : ۷۷۲۲ دار الفکربیروت
2 - پردے کے بارے میں سوال جواب ، ص۶۵-۶۶مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی