Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
23 - 81
طلب کی اُسے رِزقِ حلال پہنچاتے ہیں ۔  امام سُفیان ثوری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک شخص کو نوکریٔ حُکّام (یعنی حُکَّام کے ہاں کام کرنے ) سے منع فرمایا ۔  (اُس نے ) کہا : بال بچّوں کو کیا کروں؟ فرمایا :  ذرا سُنیو! یہ شخص کہتاہے کہ میں خُدا  کی نافرمانی کروں جب تو میرے اَہل و عیال کو رِزق پہنچائے گا اور اِطاعت کروں تو بے روزی چھوڑ دے گا ۔  (1) 
مَردوں کے لیے عورتوں  کا ناپ لینا کیسا؟
سوال : عورتوں کا ناپ لینا کیسا ہے ؟ 
جواب : مَردوں (Gents) کے لیے اَجنبی عورتوں (Ladies) کا ناپ لینا جائز نہیں کیونکہ ناپ لینے میں ان کے بَدن کو دیکھنا اور چُھونا  پڑے گا جوکہ حرام اور جہنم میں لے جانے والاکام ہے ۔ اگر کسی نے اِس طرح ناپ لیا ہے تو وہ توبہ کرے اور آئندہ  اِس سے اِجتناب کرے  ۔ اِسی طرح جو عورتیں اَجنبی دَرزیوں کے پاس جا کر اپنا ناپ دینے کے لیے اپنے بَدن کو چُھونے کی اِجازت دیتی ہیں وہ گنہگار اورجہنم کی حقدار ہیں اور اگر گھر کے مَردوں مثلاً شوہر اور باپ وغیرہ کو معلوم ہے اس کے باوجودوہ غیرت نہیں کھاتے تووہ بھی گنہگار ہیں ۔  حدیثِ پاک میں ایسوں کودَیُّوث (2)  کا لقب دیا گیا ہے اور دَیُّوث کے لیے سخت وعید



________________________________
1 -    فتاویٰ رضویہ ، ۲۳ / ۵۲۸
2 -    جو اپنی عورت یا اپنی کسی محرم پر غیرت نہ رکھے وہ دَیُّوث ہے ۔ (دُرِّمُختار ، كتاب الحدود ، ۶ / ۱۱۳)