روزے میں لگ جائیں گے تو ہمارے بچے کہاں سے کھائیں گے ؟“ان کا اس طرح کہنا کیسا ہے ؟
جواب : بال بچوں کے لیے رزقِ حلال کمانا عبادت ہے اس کا اِنکار نہیں ، مگر اس مَصروفیت کی وجہ سے نماز روزہ تَرک کرنے کی اِجازت نہیں ۔ حدیثِ پاک میں ہے : مسلمان کے لیے فَرائضِ خُداوندی (یعنی نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ وغیرہ) کے بعد رزقِ حلال طَلب كرنابھی فرض ہے ۔ (1) معلوم ہوا کہ نماز روزے کی اَدائیگی رزقِ حلال کمانے پر مُقَدَّم ہے ، لہٰذا کام کاج کی کیسی ہی مَصروفیت ہو اسے عُذر بنا کر نماز روزہ تَرک کرنے کی اِجازت نہیں ۔
رہی بات یہ کہ ” اگر ہم نماز روزے میں لگ جائیں گے تو ہمارے بچے کہاں سے کھائیں گے ؟“ تو یاد رکھیے !اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اِطاعت کرنے سے بند ہ بھوکا نہیں مرتا اور نہ ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بے یارو مددگار چھوڑ دیتا ہے بلکہ اس کے لئے راہیں آسان فرما دیتا ہے ۔ اِسی طرح کے ایک سُوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنَّت ، مجدِّدِ دِین و مِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : رِزق اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذِمَّہ ہے جس نے ہَوائے نفس (یعنی نفسانی خواہشات) کی پیروی کر کے طریقۂ حرام اِختیار کیا اُسے ویسے ہی پہنچتاہے اور جس نے حرام سے اِجتناب اور (اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اِطاعت کرتے ہوئے ) حلال کی
________________________________
1 - شعب الایمان ، باب فی حقوق الاولاد والاھلین ، ۶ / ۴۲۰ ، حدیث : ۸۷۴۱