Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
21 - 81
شمشیر بکف قاتل ہو کھڑا		اور کوئی رہے سجدہ میں پڑا
کہتی تھی زمین کرب و بلا		اس شان کا سجدہ کھیل نہیں
محبت کا دعویٰ تو آساں ہے کرنا		مگر نجم مشکل ہے اُلفت میں مَرنا
حسین ابنِ حیدر کی مانند یارو!		محبت میں سر کو کٹا کر تو دیکھو
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہم حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم اور امامِ عالی مقام حضرتِ سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے ماننے والے ہیں ۔  ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے نماز کا خوب اِہتمام کرنا ہے  ۔ جس طرح انہوں نے کسی حال میں نماز نہیں چھوڑی ، ہم بھی چند پیسوں کی خاطر نماز نہیں چھوڑیں گے بلکہ مَدَنی اِنعامات پر عمل کرتے ہوئے پانچوں نمازیں مسجد کی پہلی صف میں تکبیرِاُولیٰ کے ساتھ  باجماعت ادا کرنے کی کوشش کریں گے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ۔ 
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت
ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
میں پڑھتا رہوں سنتیں وقت ہی پر
                              ہوں سارے نوافل ادا یاالٰہی	 (وسائلِ بخشش) 
ہمارے بچے کہاں سے کھائیں گے ؟ 
سوال : بعض لوگ اپنی کاروباری مَصروفیت کی وجہ سے نماز روزہ تَرک کر دیتے ہیں اور کہتے سُنائی دیتے ہیں کہ  ” بال بچوں کے لیے کمانا بھی عبادت ہے ، اگر ہم نماز