نہ آیا ، توبہ کہاں ہوئی ۔ (1) حدیث میں فرمایا : گناہ پر قائم رہ کر اِستغفار کرنے والا اس کے مِثل ہے جو اپنے ربّ (عَزَّوَجَلَّ) سے ٹھٹھا (یعنی مذاق) کرتا ہے ۔ ()
صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا نماز کا اِہتمام
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ بات طے شُدہ ہے کہ نماز اپنے وقت پر ادا کرنی ہے ۔ ہمارے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نماز کا کس قدر اِہتمام فرماتے تھے چنانچہ اَمیرُالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پرمسجدِ نبوی شریف عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَ السَّلَاممیں عین نمازکی حالت میں قاتلانہ حملہ ہوا اور ناف کے نیچے اتنے شدید زخم آئے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جو مَشروب وغیرہ پلایا جاتا آنتوں کے راستے باہر آ جاتا ، اس قدر شدید زخمی ہونے کے باوجود ” جب آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے عَرض کی گئی : اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن!نَماز (کا وقت ہے ) ۔ فرمایا : جی ہاں! سنیے !جوشخص نَماز کو ضائِع کرتا ہے اُس کا اِسلام میں کوئی حِصّہ نہیں ۔ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے شدید زخمی ہونے کی حالت میں بھی نماز ادا فرمائی ۔ () اِسی طرح سیِّدُ الشُّہداء ، اِمامِ عالی مقام حضرتِ سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ میدانِ کربلا میں سجدے کی حالت میں اپنا سرِ مُبارَک تَن سے جُدا کرا دیا لیکن اس حال میں بھی جیسے بن پڑا نماز کی صورت اِختیار فرمائی ۔
________________________________
1 - ردالمحتار ، كتاب الصلاة ، باب قضاء الفوائت ، ۲ / ۶۲۷ ملخصاً دارالمعرفة بیروت
2 - شعب الايمان ، باب فی معالجة کل ذنب بالتوبة ، ۵ / ۴۳۶ ، حديث : ۷۱۷۸ دار الکتب العلمية بیروت
3 - کتاب الکبائر ، الكبيرة الرابعة فی ترک الصلاة ، ص۲۲ پشاور