Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط42: درزیوں کے بارے میں سُوال جواب
19 - 81
  لے جانے والاکام ہے  ۔ چنانچہ سردارِ دوجہان ، محبوبِ رَحمٰنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے  : جو جان بوجھ کر نماز چھوڑ دے اس کا نام جہنم کے اس دَروازے پر لکھ دیا جاتا ہے  جس سے وہ داخِل ہو گا ۔  (1) اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں :  عُذرِ شَرعی کے بغیر اتنی تاخیر کہ وقت چلاجائے اور قضا کرنی پڑے بیشک حرام ، فِسق اور کبیرہ گناہ ہے ۔ اس کو عذاب دینا یا بخش دینا اللہ (عَزَّ وَجَلَّ) کی مشیت (یعنی مرضی) کے سپرد ہے اور کوئی مسلمان دوزخ میں دُنیا کی عمر یعنی سات ہزارسال سے زیادہ نہیں رہے گا ۔  (2) 
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صفحات  پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 700پر ہے  : بِلا عُذرِ شَرعی نماز قضا کر دینا بہت سخت گناہ ہے ، اُس پر فرض ہے کہ اُس کی قضا پڑھے اور سچے دِل سے توبہ کرے ، توبہ یا حجِ مقبول سے گناہِ تاخیر معاف ہو جائے گا ۔  (3) توبہ جب ہی صحیح ہے کہ قضا پڑھ لے ۔ اُس کو تو ادا نہ کرے ، توبہ کيے جائے ، یہ توبہ نہیں کہ وہ نماز جو اس کے ذِمَّہ تھی اس کا نہ پڑھنا تو اب بھی باقی ہے اور جب گناہ سے باز



________________________________
1 -   کنز العمّال ، الجزء : ۷ ، ۴ / ۱۳۲ ، حدیث : ۱۹۰۸۶ دار الکتب العلمية  بیروت 
2 -    فتاویٰ رضویہ ، ۵ / ۱۱۵  
3 -    درمختار ، کتاب الصلٰوة ، باب قضاء الفوائت ، ۲ /  ص۶۲۶ دار المعرفة بیروت