اَساتذه و طُلَبا کو چاہیے کہ وہ اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ نئے اِسلامی بھائیوں کو اپنا اور اپنے جامعاتُ المدینہ و مَدارِسُ المدینہ وغیرہ کا تعارف بھی کروائیں ۔ اِس طرح لوگ اور زیادہ اِن سے مُتأثر ہو کر ان کے قریب ہوں گے اور شَرعی رہنمائی حاصِل کر سکیں گے ۔ (شیخِ طریقت ، اَمیرِ اہلسنَّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں : ) سُنَّتوں بھرا اِجتماع لوگوں سے رابطے کا ایک بہترین ذَریعہ ہے لہٰذا جامِعات کے اَساتذۂ کِرام و طُلَباءِ کِرام شُرکائے اِجتماع بالخصوص دوسرے شہروں سے تشریف لائے ہوئے عُلمائے کِرام و مَشائخِ عُظَّام کَثَّرھُمُ اللہُ السَّلَام سے مُلاقاتیں کریں ۔ یاد رکھیے ! عوام کی صفوں میں داخِل ہوئے بغیر مَدَنی کاموں میں کامیابی حاصِل نہیں کی جا سکتی ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں شروع سے ہی ذاتی دوستیاں کرنے کے بجائے عوام میں گھل مِل جاتا اور انہیں نیکی کی دعوت پیش کرتا ۔
ایک بار مکۂ مُکَرَّمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں حاجیوں کے دَرمیان اِجتماع کی تَرکیب تھی لیکن شناسائی نہ ہونے کے سبب لوگ قریب نہیں آ رہے تھے لہٰذا میں نے خود آگے بڑھ کر پہلے سلام و دُعا کے ذَریعے گفتگو کا آغاز کیا اور پھر حاجیوں میں گھل مِل جانے کے بعد خوب نیکی کی دعوت عام کی ۔ نیکی کی دعوت دینے کے لیے گھروں سے نکلنا اور اپنی شرم و جھجک کو دُور کرنا ہو گا ، بغیر قربانی دیئے کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ ہمارے امامِ عالی مقام حضرتِ سیِّدُنا امامِ حسین رَضِیَ