نرم ہو جائے ) ۔ (1)سفر کے دَوران اگر ممکن ہو تو روزانہ فیضانِ سُنَّت کے چار صفحات اور کنز الایمان سے تین آیات مَع تَرجمہ و تفسیر والے مَدَنی اِنعام پر بھی عمل کیجیے اور انہیں بھی تَرغیب دِلائیے ۔
وقتِ مُناسب پر مَدَنی اِنعامات کا رِسالہ پُر کرتے ہوئے انہیں بھی فکرِ مدینہ کا ذہن دیجیے کہ فکرِ مدینہ کا مَطلب ہے اپنا اِحتساب کرنا ، حدیثِ پاک میں اس کی تَرغیب بیان کی گئی ہے ۔ چنانچہ فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے : سمجھدار وہ ہے جو اپنے نفس کا مُحاسبہ کرے اور موت کے بعد والی زندگی کے لیے عمل کرے اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے اِنعام کی خواہش کرے ۔ (2)
مبلغین تَربیت کے اس موقع کو غنیمت جانیں اور نئے آنے والے اسلامی بھائیوں کو بھرپور شفقت دے کر مَدَنی اِنعامات کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش فرمائیں ۔ کھانے پینے اور دِیگر معاملات میں اِیثار کا بھرپور مُظاہرہ کریں بالخصوص واپسی پر انہیں آپ کی محبت اور توجہ کی زیادہ حاجت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ تھکاوٹ کے باعِث آپ ان پر توجہ نہ دے سکیں اور شیطان انہیں طرح طرح کے وَساوِس میں مبتلا کر کے بَدظن کر دے کہ اِجتماع میں لانے کے لیے تو
________________________________
1 - وسائل الوصول الٰی شمائل الرسول ، الفصل الثانی فی صفة فراشه صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وما یناسبه ، ص۱۲۱ دار المنهاج بيروت
2 - ترمذی ، کتاب صفة القیامة ، باب(ت : ۹۰) ۴ / ۲۰۷ ، حدیث : ۲۴۶۷ دار الفکر بیروت