لگتیں ۔ ( ) ہمیں چاہيے کہ موقع بہ موقع تینوں سنتیں ادا کریں ، یعنی کبھی آدھے کان تک تو کبھی پورے کان تک تو کبھی کندھوں تک زُلفیں رکھیں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنا اور اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا مطیع و فرمانبردار بنائے اور سُنَّتوں پر عمل کرنے کا جذبہ نصیب فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
مطیع اپنا مجھ کو بنا یاالٰہی
سَدا سُنَّتوں پر چلا یاالٰہی (وسائلِ بخشش )
”اِنْ شَآءَ اللہ“لکھنے کا طریقہ
سُوال : عام تحریروں میں لوگ”اِنْ شَآءَ اللہ“ لکھتے وقت ”ن“ کو ”ش“سے ملا کر لکھتے ہیں جبکہ آپ اپنی تحریروں میں”ن“ کو ”ش“سے جُدا کر کے لکھتے ہیں اس میں کیا حکمت ہے؟
جواب : ”اِنْ شَآءَ اللہ“کے اَلفاظ چونکہ قرآنی اَلفاظ ہیں اور اَلفاظِ قرآنی لکھتے وقت حتَّی الامکان میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ قرآنی رَسم الخط اور اِعراب کے مُطابق ہی لکھے اور پڑھے جائیں ۔ قرآنِ کریم میں جہاں بھی”اِنْ شَآءَ اللہ“کے اَلفاظ آئے ہیں ہر جگہ”ن“ ”ش“سے جُدا ہے اس لیے میں بھی اسی کا اِہتمام کرتا
________________________________
1 - شمائل ترمذی ، ص ۱۸-۳۴-۳۵ دار احیاء التراث العربی بیروت