ہوں ۔ اسی طرح لفظِ ”جُمُعَہ“ کو عموماً لوگ”جُمْعَہ “پڑھتے ہیں لیکن میں قرآنی اِعراب کا لحاظ کرتے ہوئے ”جُمُعَہ“لکھتا اور بولتا ہوں ۔ یاد رکھیے ! عام بول چال میں اگر کسی لفظ کا غَلَط تلفظ یا اِستعمال ایسا عام ہو جائے کہ عوام و خواص سبھی اسے اپنا لیں تو یہی فصیح کہلائے گا جیسا کہ مشہور مقولہ ہے : ”غَلَطُ الْعَامِ فَصِیْحٌ یعنی وہ غلط تلفظ جسے پڑھے لکھے لوگوں نے قبول کر لیا ہو وہ فصیح ہے ۔“ہاں ! اگر فقط عوام ہی میں غَلَط رائج ہو اور خواص میں اس کا دُرُست اِستعمال ہو تو پھر وہ فصیح نہیں مانا جائے گا کیونکہ”غَلَطُ الْعَوَامِ غَیْرُ فَصِیْحٍ یعنی وہ لفظ جسے عوام نے غَلَط تلفظ کے ساتھ بولنا شروع کر دیا ہو وہ فصیح نہیں کہلائے گا ۔“
٭…٭…٭
حُصُولِ جَنَّت کی دُعا
حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بِن مالِک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ نبیوں کے سُلطان ، رَحمتِ عالَمِیَّان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ جنَّت نشان ہے : جو شخص تین مَرتبہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے جنَّت کا سُوال کرتا ہے تو جنَّت کہتی ہے : ”اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اسے جنَّت میں داخِل فرما ۔“اور جو تین مَرتبہ جہنم سے پناہ مانگتاہے تو جہنم کہتی ہے : ”اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اسے جہنم سے پناہ عطا فرما ۔“
(ترمذی ، کتا ب صفة الجنة ، باب ما جاء فی صفة انھار الجنة ، ۴/ ۲۵۷ ، حديث : ۲۵۸۱ )