اَپنانے اور ان جیسی شکل و صورت اِختیار کرنے والوں کے لیے عبرت ہی عبرت ہے ۔چنانچہ سُلطانِ اِنس و جان ، سرورِ ذِیشانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْھُمْ جو کسی قوم سے مُشابَہَت پیدا کرے وہ انہیں میں سے ہے ۔ (1 ) ایک اور حدیثِ پاک میں اِرشاد فرمایا : مونچھیں خوب پست (یعنی چھوٹی ) کرو اور داڑھیوں کو مُعافی دو (یعنی بڑھاؤ ) اور یہودیوں کی سی صورت نہ بناؤ ۔ (2 ) لہٰذا ہمیں ہر ہر معاملے میں غیروں کی نقّالی سے بچتے ہوئے اپنے میٹھے میٹھے آقا ، مکی مَدَنی مصطفٰےصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی پیروی کرنی چاہیے ۔
اسی طرح فیشن کے بال رکھنے کے بجائے زُلفیں رکھنے کی سُنَّت پر عمل کیجیے کہ ہمارے پیارے آقا ، دو عالم کے داتا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے حج و عمرہ کے احرام سے باہر ہوتے وقت حلق فرمانے کے علاوہ ہمیشہ اپنے سرِ مبارک کے پورے بال رکھے ۔ ( 3) آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی مبارک زُلفیں کبھی نصف (یعنی آدھے ) کان مبارَک تک تو کبھی کان مبارَک کی لَو تک اور بعض اوقات بڑھ جاتیں تو مبارَک شانوں (یعنی کندھوں ) کوجھوم جھوم کر چومنے
________________________________
1 - ابو داود ، کتاب اللباس ، باب فی لبس الشھرة ، ۴/۶۲ ، حدیث : ۴۰۳۱
2 - شرح معانی الآثار ، کتاب الکراھة ، باب حلق الشارب ، ۴/۲۸ ، حدیث : ۶۴۲۲-۶۴۲۴دار الکتب العلمیة بیروت
3 - بہارِ شریعت ، ۳/۵۸۶ ، حِصّہ : ۱۶ماخوذاًمکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی