Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 37:سارے گھر والے نیک کیسے بنیں؟
34 - 37
جواب : دُنیا کا عام دستور ہے کہ اِنسان کو جس سے محبت ہوتی ہے وہ اس کا مطیع و فرمانبردار ہوتا ہے ، اُس کی ہر ادا اُسے پیاری لگتی ہے ، اس کی عادات و اَطوار  اَپنانے کی کوشش کرتاہے ۔ ایک مسلمان کو بحیثیتِ مسلمان سب سے زیادہ محبت اللہ  عَزَّوَجَلَّ  اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ہونی چاہیے ، پھر اس محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اِنسان اپنی زندگی کو اللہ  و رسول عَزَّوَجَلَّ  وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے بتائے ہوئے اَحکامات کے مطابق گزارے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مسلمانوں کو کامیاب زندگی گزارنے کے لیے اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چنانچہ خُدائے رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان  ہے :   
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (پ۲۱ ، الاحزاب : ۲۱ ) 	ترجمۂ کنز الایمان : بےشک تمہیں رسولُ اﷲ  کی پیروی بہتر ہے ۔
جو مسلمان آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی جتنی اچھّی پیروی کرے گا وہ اُتنا ہی اعلیٰ کامیاب ہو گا اورجو اللہ  عَزَّوَجَلَّ کے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی پیروی کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی کرے گا اور کفّار کے طور طریقے اپنائے گا وہ ہر گز  کامیاب نہیں ہوسکے گا ۔ غیروں کی نقّالی کرنے ، ان کے طور طریقے