بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
ہر کام شَریعت کے مُطابق میں کروں کاش !
یا ربّ تو مبلغ مجھے سُنَّت کا بنا دے (وسائلِ بخشش )
دعوتِ اسلامی بِچھڑوں کو ملاتی ہے
سُوال : اگر کوئی اسلامی بھائی یا عام نوجوان گھر سے بھاگ کر آپ کے پاس آ جائے تو آپ کیا کرتے ہیں؟
جواب : اس طرح کے کئی اَفراد گھر سے بھاگ کر میرے پاس آتے اور اپنی اپنی داستانِ غم نشان سناتے ہیں ۔کوئی کہتا ہے کہ میرے ساتھ گھر والوں نے یہ کیا ، کوئی کہتا ہے میرے ساتھ گھر والوں نے وہ کیا ، اَلغرض ہر ایک اپنے مظلوم و بے قصور ہونے کا رونا روتا ہے ، پھر جب ان سے تِرچھے سُوالات (Cross Qustions ) کیے جاتے ہیں تو ان میں سے اکثریت کی اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں سامنے آتی ہیں ، مثلاً وہ گھر والوں سے غصّے میں لڑ جھگڑ کر ، زبان چلا کر اور جذبات میں آکر مار دھاڑ کر کے بھاگے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ایسوں کو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں ہر گز پناہ نہیں دی جاتی بلکہ انہیں سمجھا بجھا کر ، والدین کے حقوق بتا کراور ان کی شفقتیں یاد دِلا کر گھر والوں سے ملانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ (شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : ) کئی بار میں نے ایسے اسلامی بھائیوں کو سمجھا کر ان کے والدین کے لیے اس طرح کا