Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 37:سارے گھر والے نیک کیسے بنیں؟
30 - 37
	امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : شَریعت و طریقت ایک دوسرے سے جُدا اور مختلف راہوں کا نام نہیں بلکہ شَریعت کی اِتباع کیے بغیر خُدا تک پہنچنا محال ہے ۔ شَریعت راہ کو کہتے ہیں اور شَریعتِ محمدیہ کا معنیٰ ہے محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی راہ اور یہ تمام اَحکام جسم و جان و رُوح وقلب و جملہ عُلُومِ اِلٰہیہ و مَعارفِ نامتناہیہ کو جامع ہے جن میں سے ایک ایک ٹکڑے کا نام طریقت و مَعرفت ہے ۔ 
اِسی طرح طریقت بھی راہ ہی کا نام ہے نہ کہ پہنچ جانے کا ، اب اگر وہ شَریعت سے جُدا ہو تو خُدا تک نہیں بلکہ شیطان تک پہنچائے گی ، جنَّت تک نہیں بلکہ جہنم میں لے جائے گی  کہ شَریعت کے سِوا سب راہوں کو قُرآنِ عظیم نے  باطِل و مَردود فرمایا ہے ۔ معلوم ہوا کہ طریقت یہی شَریعت اور اسی راہِ روشن کا ایک ٹکڑا ہے ۔ اس میں جو کچھ منکشف ہوتا ہے شریعت ہی کے اِتباع کا صَدقہ ہے ورنہ بے اتباعِ شَرع بڑے بڑے  کشف راہبوں ، جوگیوں اور سنیا سیوں کو دیئے جاتے ہیں ، پھر وہ کشف انہیں  دَردناک عذاب اور جہنم کی آگ تک پہنچاتے ہیں ۔ چنانچہ سیِّدُ الطائفہ حضرتِ سَیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی سے عرض کیا گیا کہ” کچھ لوگ  یہ گمان  کرتے ہیں کہ اَحکامِ شریعت تو اللہ  عَزَّوَجَلَّ تک پہنچنے  کا ذَریعہ تھے اور ہم پہنچ گئے  اب ہمیں شَریعت کی کیا حاجت؟ “فرمایا :  وہ سچ کہتے ہیں ، وہ ضَرور پہنچ گئے مگر کہاں تک؟ جہنم تک ۔ چور اور زانی ایسے