مَسائِل حَل نہیں کیے ، اس لیے میں نے ان کی بیعت توڑ دی ہے آپ مجھے اپنا مُرید بنا لیں ۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ دُنیوی مَسائِل حَل کروانے کے لیے کسی کو پیر نہیں بنایا جاتا بلکہ پیر بنانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایمان کی حفاظت ہو اور پیرِ کامل کی توجُّہ کی بَرکت سے اُخروی معاملات آسان ہوں لہٰذا دُنیوی مَسائِل حَل نہ ہونے کی بِنا پر پیر بدلنا دُرُست نہیں ہے ۔
دوسروں کے فیض کو اپنے مُرشِد ہی کا فیض سمجھیے
بیعت ہونے کے بعد اگر مَسائِل حل نہ ہوں اور بیماریاں و پریشانیاں دُور نہ ہوں تو بَدظن ہونے کے بجائے یوں ذہن بنانا چاہیے کہ میرے لیے اسی میں بہتری ہو گی ، ہو سکتا ہے کہ ان معمولی مَسائِل کی بَدولت بڑی بڑی آفات ٹل گئی ہوں ۔ جو کچھ فیض پہنچے اسے اپنے مُرشِد کا طفیل سمجھے ، اگر کسی دوسرے بُزرگ سے فیض پہنچے تب بھی اسے اپنے مُرشِد ہی کا فیض تصوُّر کرے ۔ اس ضمن میں ایک حِکایت مُلاحظہ کیجیے ۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا نظامُ الحق وَالدِّین محبوبِ الٰہی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں تین دَرویش حاضِر ہوئے تو ان میں سے ایک کو حضور رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے سینے سے لگایا اور جو کچھ باطنی فُیوضات عطا فرمانا تھے عطا فرما ديئے ۔ اس پر وہ دَرویش وَجد میں جھومنے لگا اور کہنے لگا کہ میرے مُرشِدِ کامِل نے مجھے نعمت عطا فرمائی ہے ۔ حاضِرین اس سے کہنے لگے کہ بیوقوف ! جو کچھ تجھے ملا وہ تو حضرت محبوبِ الٰہی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا