محض حُصُولِ دُنیا کا ذَریعہ بنا رکھا ہے ۔ بیشمار بَدعقیدہ اور گمراہ لوگ بھی تَصَوُّف کا ظاہری لِبادہ اوڑھ کر لوگوں کے دِین و ایمان کو بَرباد کر رہے ہیں لہٰذا مُرید ہوتے وقت مُرشِدِ کامِل کی پہچان کو پیشِ نظر رکھنا ضَروری ہے تاکہ بیعت ہونے کے مَقاصِد پورے ہوں اور ان مُقَدَّس ہستیوں کی بَرکت سے سفرِ آخرت کی مَنازِل آسان ہوں ۔ ( 1 )
مَسائِل حَل نہ ہونے کی بِنا پر پیر بدلنا دُرُست نہیں
افسوس ! صَد کروڑ افسوس ! فی زمانہ بیعت سفرِ آخرت کی مَنازِل میں آسانی ہونے کے بجائے فقط دُنیوی اَغراض کے لیے کی جاتی ہے ۔ پیر صاحب کی طرف سے نوکری یا دُنیوی عُہدہ ملنے کی صورت میں خوب پیر صاحب کی واہ وا ہوتی ہے مگر بیماری ، تنگدستی و بے روزگاری اور دِیگر مَصائِب دُور نہ ہونے کی صورت میں پیر صاحِب کے کامِل ہونے میں شکوک و شبہات پیدا ہونے لگتے ہیں اور بعض تو بَدظن ہو کر بیعت تک توڑ دیتے ہیں ۔ (شیخِ طریقت ، اَمیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : ) ایک مرتبہ ایک صاحِب میرے پاس آئے دَورانِ مُلاقات کہنے لگے کہ میں فُلاں پیر صاحب کا مُرید تھا ، انہوں نے میرے
________________________________
1 - اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ایسےشخص سے بیعت کا حکم ہے جو کم از کم یہ چاروں شرطیں رکھتا ہو : اوّل : سنی صحیح العقیدہ ہو ۔دوم : علمِ دِین رکھتا ہو ۔سوم : فاسق نہ ہو ۔ چہارم : اس کا سلسلہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تک متصل ہو ، اگر ان میں سے ایک بات بھی کم ہے تو اس کے ہاتھ پر بیعت کی اجازت نہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۱/۶۰۳ )