Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 37:سارے گھر والے نیک کیسے بنیں؟
25 - 37
قُطبِ مدینہ ، حضرتِ علّامہ مولانا ضیاءُ الدِّین اَحمد مَدَنی قادِری رَضَوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی ہی  کی ہستی  توجہ کا مَرکز بنی کیونکہ اس مُقَدَّس ہستی کا دامن تھام کر ایک ہی واسطے سے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت سے نسبت ہو جاتی تھی اور اس”ہستی“ میں ایک کشش یہ بھی تھی کہ اس پر  بَراہِ راست گنبدِخضرا  کا سایہ پڑ رہا تھا یعنی مدینۂ منورہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں ہی ان کی رہائش تھی ۔ 
جب میں نے ان سے بیعت ہونے کا اِرادہ کیا تو ایک دوست نے کہا کہ تم نے قُطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو دیکھا ہی  نہیں ہے تو بِن دیکھے تصوُّرِ شیخ کیسے کرو گے؟ تو جواب میں بے ساختہ میرے مُنہ سے یہ اَلفاظ نکلے کہ شیخِ کامِل تو خواب میں بھی زیارت کروا سکتے ہیں !  ( لیکن اس کا مطلب  ہرگز یہ نہیں کہ خواب میں اگر کسی پیر صاحب کی زیارت نہ ہو تو وہ پیرِ کامل نہیں ۔ ) اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اسی رات خواب میں مجھے ایک بزرگ کی زیارت ہوئی ، ان کا حُلیہ جب میں نے خلیفۂ قُطبِ مدینہ حضرت مولانا قاری مصلح الدِّین قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے سامنے بیان کیا تو انہوں نے تصدیق فرمائی  کہ وہ  زیارت کروانے والے بزرگ سَیِّدی قُطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ تھے ۔ 
 میری عقیدت مَزید بڑھ گئی اور میں نے مُرید ہونے کے لیے زائرینِ مدینہ (یعنی مدینے جانے والوں ) کے ہاتھ کئی خُطُوط بھیجے لیکن سَیِّدی قُطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی طرف سے یہی جواب آتا کہ ہم اس طرح مُرید نہیں کرتے ، اگر