Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 37:سارے گھر والے نیک کیسے بنیں؟
24 - 37
یعنی لوحِ محفوظ اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ  السَّلَام کے پیشِ نظر رہتی ہے اور جو کچھ اس میں محفوظ ہے وہ خَطا   سے محفوظ ہے ۔ 
سیِّدی قُطبِ مدینہ سے بیعت
سُوال : سیِّدی قُطبِ مدینہ حضرتِ مولانا ضیاءُ الدِّین احمد مَدَنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی سے آپ کس طر ح بیعت ہوئے؟ 
جواب : (شیخِ طریقت ، اَمیرِاہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : ) اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنَّت ، مُجدّدِ دِین و مِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مجھے شروع  ہی سے  بے حد عقیدت و محبت تھی ، اس عقیدت و محبت  کی بِنا پر  مجھے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کے سلسلے میں داخِل ہونے کا شوق پیدا ہوا ۔ اس وقت اگرچہ  شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیٔ اعظم ہند رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ حیات تھے مگر ان سے بیعت ہونے کی صورت میں اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت میرے دادا پیر نہ بنتے اس لیے کہ حضور مفتیٔ اعظم ہند رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کے مُرید نہ تھے بلکہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے اپنے دونوں شہزادوں کو ولیٔ  کامِل حضرتِ سَیِّدُنا شاہ ابو الحسین احمد  نوری میاں مارہروی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  کا مُرید کروایا تھا ۔  
اس وقت دِیگر مَشائخِ اہلسنَّت کی بھی کمی نہ تھی مگر مُرید ہونے کے لیے  شیخ الفضیلت ، آفتابِ رَضَویت ، مُرید وخلیفۂ اعلیٰ حضرت ، میزبانِ مہمانانِ مدینہ ،