نَظَرْتُ اِلٰی بِلَادِ اللہِ جَمْعًا
کَخَرْدَلَۃٍ عَلٰی حُکْمِ اتِّصَالٖ
یعنی میں نے اللہ (عَزَّوَجَلَّ ) کے تمام شہروں کو مِثل را ئی کے دانے کے مُلاحظہ کیا ۔
اور یہ دیکھنا کسی خاص وقت سے خاص نہ تھا بلکہ عَلَی الْاِتِّصَال (یعنی لگاتار ) یہ ہی حکم ہے اور فرماتے ہیں : ”اِنَّ بُؤْبُؤْۃَ عَیْنِیْ فِی اللَّوْحِ الْمَحْفُوْظِ میری آنکھ کی پتلی لوحِ محفو ظ میں لگی ہے ۔“لوحِ محفوظ کیا ہے؟اس کے بارے میں اللہتعالیٰ فرماتا ہے : (وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ(۵۳)) (پ۲۷ ، القمر : ۵۳ ) ترجمۂ کنز الایمان : ”اور ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے ۔“اور فرماتا ہے : (مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ)(پ۷ ، الانعام : ۳۸ ) ترجمۂ کنز الایمان : ”ہم نے کتاب میں کوئی شے اُٹھا نہ رکھی ۔“ اور فرماتا ہے : (وَلَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ(۵۹)) (پ ۷ ، الانعام : ۵۹ ) ترجمۂ کنز الایمان : ” کوئی تَر و خشک ایسا نہیں جو کتابِ مُبین میں نہ ہو ۔“تو جب لوحِ محفوظ کی یہ حالت کہ اس میں تمام کائنات روزِ اوّل سے روزِ آخر تک محفو ظ ہیں تو جس کو اس کا عِلم ہو ، بے شک اسے ساری کائنات کا عِلم ہو گا ۔ ) (حضرتِ مولانا رُوم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَیُّوْم مَثنوی شریف میں فرماتے ہیں :
لَوحِ مَحفوظ اَست پیشِ اَولیا
اَزچہِ مَحفوظ اَست محفوظ اَز خطا
________________________________
1 - ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص۸۱ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی