کے بعد دوسری خاتون سے عَقد (یعنی نکاح ) فرمایا تو یہ کاتِبُ الحُرُوف فقیر وَلِیُّ اللہ پیدا ہوا ۔ شروع میں یہ واقعہ یاد نہ رہا تو وَلِیُّ اللہ نام رکھ دیا اور کچھ عرصہ کے بعد یاد آیا تو دوسرا نام (خواجہ قُطبُ الدِّین بختیار کاکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کے فَرمان کے مُطابِق ) قُطبُ الدِّین اَحمد رکھا ۔ (1)
لوحِ محفوظ اَولیائے کِرام کے پیشِ نظر
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت ، مُجدِّدِدِین و مِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ) کے صَدقے میں اللہتعالیٰ نے حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ) کے غُلاموں کو یہ مَرتبہ عنایت فرمایا ۔ ایک بزرگ (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ) فرماتے ہیں : ”وہ مَرد نہیں جو تمام دُنیا کو مِثل ہتھیلی کے نہ دیکھے ۔“ انہوں نے سچ فرمایا اپنے مَرتبہ کا اِظہار کیا ۔ ان کے بعد حضرت شیخ بہاءُ الملَّۃِ وَالدِّین نقشبند قُدِّسَ سِرُّہ نے فرمایا : ” میں کہتا ہوں مَرد وہ نہیں جو تمام عالَم کو انگوٹھے کے ناخن کی مِثل نہ دیکھے ۔“اور وہ جو نسب میں حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ) کے صاحبزادے اور نسبت میں حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ) کے ایک اعلیٰ جاہ کَفَش بردار (یعنی بلند رُتبہ غُلام ) ہیں اَعْنِیْ (یعنی ) حضور سیِّدُنا غوثِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قصیدۂ غوثیہ شریف میں اِرشاد فرماتے ہیں :
________________________________
1 - انفاسُ العارفین ، ص ۷۹ ملخصاً فضل نور اکیڈمی گجرات