میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اَولیائے کاملینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کی بھی کیا خوب شانیں ہیں ، ان نُفُوسِ قدسیہ پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے آئندہ پیش آنے والے حالات و واقعات منکشف ہو جاتے ہیں اور یہ حضرات پہلے ہی سے ان حالات و واقعات کی خبر دے دیتے ہیں جیسا کہ ولیٔ کامِل حضرتِ سَیِّدُنا شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں مارہروی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِینے شہزادۂ اعلیٰ حضرت کے متعلق پہلے ہی سے پیشن گوئی فرما دی تھی ۔ چنانچہ آپ کی دی ہوئی غیبی خبر کی صَداقت دُنیا نے اس وقت دیکھی کہ جب شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، حضور مفتیٔ اعظم ہند مولانا محمدمصطفٰے رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ہدایت کے دَرَخشندہ ستارے بن کر آسمانِ ولایت پر چمکے اور لاکھوں ظلمت کَدوں میں بھٹکنے والوں کو راہِ راست پر لگا دیا ۔ انہیں خدمات کی بَدولت عُلمائے کِرام نے آپ کو ’’مفتیٔ اعظم ہند‘‘کے لقب سے یاد کیا ۔
مفتیِ اعظم بڑی سرکار ہے
جبکہ ادنیٰ سا گدا عطّار ہے
مفتیِ اعظم سے ہم کو پیار ہے
اِنْ شَآءَ اللہ اپنا بیڑا پار ہے (وسائلِ بخشش )
کیا اَولیائے کِرام کوغیب کا عِلم ہوتا ہے؟
سُوال : کیا اَولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کو بھی علمِ غیب حاصِل ہوتا ہے ؟