Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 33: بُرائی کا بدلہ اچھائی سے دیجئے
23 - 27
نشاندہی کیے بغیر ان اَلفاظ میں دُعا کروا سکتے ہیں : ” میرے ایک قریبی عزیز بعض بُری عادات میں گرفتار ہیں ان کی اِصلاح کے لیے دُعا کر دیجیے ۔ “ یونہی بہن یا بیٹی بھاگ گئی یا کسی لڑکے کے چکّر میں پڑ گئی تو ان اَلفاظ میں دُعا کی دَرخواست کی جا سکتی ہے : ” میری ایک رشتے دار کسی ناقابلِ بیان بُرائی میں پڑ گئی ہے اُس  کے لیے دُعا کر دیجیے ۔ “ چاہیں تو ان الفاظ میں دُعا  کا کہہ دیں کہ آپ دُعا فرمائیں کہ”اللہ عَزَّوَجَلَّ  میری جائز مُرادوں پر رَحمت کی نظرفرما دے “یہ بہترین  جامع دُعا ہے ۔   اس طرح کے اَلفاظ کے ذَریعے دُعا کروانے  کا یہ فائدہ  ہو گا کہ کسی فَردِ مُعَیَّن کی غیبت  بھی نہیں ہو گی اور مَخصُوص بُرائی اور خلافِ حیا اَلفاظ کے بیان کرنے اور لکھنے سے بھی بچت ہو جائے گی ۔   
دیدے پَردہ بہو بیٹیوں کو
ماؤں بہنوں سبھی عورَتوں کو
ہم سبھی کو حقیقی حیا کی
میرے مولیٰ تو خیرات دے دے 	( وسائلِ بخشش )
مَدَنی ماحول میں اِستقامت
سُوال : دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں اِستقامت  کیسے حاصِل ہو سکتی ہے ؟ 
جواب : آج کے اس پُرفتن دور میں عاشقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول کسی نعمتِ غیر مُتَرَقَّبَہ( یعنی غیر متوقع طور پر ملنے والی نعمت ) سے