Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 33: بُرائی کا بدلہ اچھائی سے دیجئے
22 - 27
دُوری اور مدنی ذہن نہ ہونے کے سبب اس بات کی بالکل پروا ہی  نہیں کی جاتی ۔  بسااوقات لوگ دُعا یاتعویذات کے لیے کہتے یا مکتوبات بھیجتے ہیں تو ان میں مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !اپنی گندی حَرکات کا اِنکشافات کرتے بلکہ اپنی ماں بہنوں تک کے لیے حیا سوز باتیں لکھ دیتے ہیں! مَثَلاً میری ماں یا بہن یا بیٹی یا بیوی کے فُلاں آدمی سے ناجائز تعلقات ہیں ، میری بہن کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے ، میری بیٹی فیشن کر کے بے پردہ گھومتی ہے ، میری جوان بہنیں شادی کے اِنتظار میں بیٹھی ہیں وغیرہ وغیرہ اور انہیں  اِس بات  کا قطعاً اِحساس  نہیں ہوتا کہ ہماری تحریر نہ جانے کون کون پڑھتا ہو گا اور اُس پڑھنے والے کو کیسے کیسے  وَساوِس آتے ہوں گے ۔ حد تو یہ ہے کہ اسلامی بہنیں بھی اِحتیاط نہیں کرتیں ، کوئی لکھتی ہے : میرا شوہر یا باپ کماتا نہیں بس سارا دن گھر میں پڑا رہتا ہے ، کوئی لکھتی ہے : میرا شوہر یا باپ گھر میں جھگڑے کرتا رہتا ہے ، ساس یا نند ظلم کرتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ 
تفصیلات بیان کرنے کے بجائے مبہم اَلفاظ میں بات کیجیے 
یاد رکھیے !جب بھی کسی سے دُعا کے لیے کچھ زبانی  کہنا ہو یا دُعا کروانے اور تعویذات حاصِل کرنے  کے لیے مکتوب بھیجنا ہو تو تفصیلات بیان کرنے کے بجائے مبہم ( یعنی بند )اَلفاظ میں بات کرنی مُناسِب ہے مَثَلاً بیٹا یا بھائی یا شوہر شراب یا جُوئے کی بُرائی میں مبتلا ہے تو اس  بُرائی اور بُرائی کرنے والے کی