کا ان عُیُوب پر مشتمل مکتوب کو پڑھنا کیسا ہے ؟
جواب : اگر کسی ذِمَّہ داریا عام اسلامی بھائی سے کوئی بُرائی صادِر ہو جائے یا اس کی ذاتی یا تنظیمی کسی کوتاہی کی وجہ سے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام کو نقصان پہنچ رہا ہو تو تحریری طور پر یا بَراہِ راست مل کر نرمی کے ساتھ اسے سمجھانے کی کوشش کی جائے ۔ اگر خود سمجھانے کی جُرأت نہ ہو یا ناکامی کی صورت میں تنظیمی ترکیب کے مُطابِق مسئلہ حل کر نے کے لیے اوپر والے ذِمَّہ دار کو مکتوب لکھا تو اس مکتوب کا لکھنا اور دوسرے ذِمَّہ دار کا پڑھنا دونوں دُرُست ہیں کیونکہ مقصود اس کی بُرائی کرنا نہیں بلکہ اِصلاح کرنا ہے ۔ مُفَسِّرِ شَہِیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : شاگرد کی شکایت اُستاد سے ، مُرید کی شکایت پیر سے حتّٰی کہ اپنے امام کی شکایت سُلطانِ اِسلام سے کر سکتے ہیں یہ غیبت نہیں بلکہ اِصلاح ہے ۔ ( 1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر آپ کسی اسلامی بھائی میں بُرائی پائیں تو بِلا اِجازتِ شَرعی دوسروں پر اِظہار کر کے غیبت کے کبیرہ گناہ کا مُرتکب ہونے کے بجائے براہِ راست اُس کو تنہائی میں نرمی کے ساتھ سمجھائیے ۔ ناکامی کی صورت میں خاموشی اِختیار کرتے ہوئے اُس کے لیے دُعا کیجیے ۔ اگر دِینی نقصان کا اَندیشہ ہو تو اپنے ذَیلی مشاوَرت کے نگران کو تنہائی میں بتا کر یا لکھ کر اُس کا تعاوُن حا صِل
________________________________
1 - مِراٰۃ المناجیح ، ۳ / ۲۳۳