Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 33: بُرائی کا بدلہ اچھائی سے دیجئے
19 - 27
یاد رکھیے !”اِدھر اُدھر کان لگا کر لوگوں کی باتوں کو چُھپ چُھپ کر سننا یا تاک جھانک کر لوگوں کے عیبوں کو تلاش کرنا یہ بڑی ہی چھچھوری حَرکت اور خَراب عادت ہے ۔  دُنیا میں اس کا اَنجام بَدنامی اور ذِلَّت و رُسوائی ہے اور آخرت میں اس کی سزا جہنم کا عذاب ہے ایسا کرنے والوں کے کانوں اور آنکھوں میں قیامت کے دن سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا ۔  قرآنِ مجید میں اور حدیثوں میں خُدا وند قدُّوس اور ہمارے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ(وَ لَا تَجَسَّسُوْا )(1  )( ترجمۂ کنزُ الایمان : اور عیب نہ ڈھونڈو ۔  ) کسی کے عیبوں کو تلاش کرنا حرام اور گناہ ہے مَردوں کی بہ نسبت عورتوں میں یہ عیب زیادہ پایا جاتا ہے ۔ “( 2 ) 
اُٹھے نہ آنکھ کبھی بھی گناہ کی جانِب
عطا کرم سے ہو ایسی مجھے حیا یاربّ
کسی کی خامیاں دیکھیں نہ میری آنکھیں اور
سنیں نہ کان بھی عیبوں کا تذکرہ یاربّ	( وسائلِ بخشش )
اِصلاح کی خاطِر شکایات کرنا
سُوال : کسی ذِمَّہ دار کے ذاتی یا تنظیمی عُیُوب لکھ کر اس سے بڑے ذِمَّہ دار کو دینا اور اس



________________________________
1 -    پ۲۶ ، الحجرات : ۱۲ /  الترغیب والترھیب ، کتاب الادب ، الترھیب من الحسد و فضل سلامة الصدر ، ۳ / ۴۲۵ ، حديث : ۴۴۳۴  دار الفکر بیروت 
2 -    جنتی زیور ، ص ۱۲۳ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی