دِینار کی اَدائیگی کا لکھا اور اسے لے جا کر فَضل بِن رَبیع کے وکیل کو دے دیا ۔ وکیل نے جب یہ خط دیکھا تو اَصلی سمجھ کر دِیناروں کا وزن کرنے لگا ۔ اِسی دَوران فَضل بِن رَبیع بھی کسی کام کے سلسلے میں اپنے وکیل کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔ وکیل نے اسے مُعاملے سے آگا ہ کیا تو فَضل نے اس خط کو پڑھا پھر اس شخص کی طرف نظر کی تو دیکھا کہ وہ شرم سے پانی پانی ہو گیا ہے ۔ فَضل نے سر نیچے کر لیا پھر اپنے وکیل سے کہا : کیا تم جانتے ہو میں تمہارے پاس اس وقت کیوں آیا ہوں؟ وکیل نے کہا : مجھے نہیں معلوم ۔ کہا : میں اس لیے آیا ہوں تاکہ تم اس شخص کے مُعاملے کو جلدی نمٹاؤ ۔ وکیل نے جلدی سے اسے وزن کر کے مال دے دیا اور جب اسے مال مِلا تو وہ حیرانی میں ڈوب گیا ۔ فضل نے اسے دیکھا تو کہا : خوشی سے چلے جاؤ ۔ اس شخص نے یہ سُن کر فَضل کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور کہا : جس طرح آپ نے میری پَردہ پوشی کی اللہ عَزَّوَجَلَّ دُنیا وآخرت میں آپ کی پَردہ پوشی فرمائے ۔ یہ کہہ کر وہ شخص مال لے کر چلا گیا ۔ (1 )
عیب جوئی حرام اور گناہ ہے
ان حِکایات سے وہ لوگ عِبرت حاصِل کریں جو بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کی مَحبَّت کا دَم تو بھرتے ہیں مگر زبردستی آڑے تِرچھے سُوالات( Cross Questions ) کر کے لوگوں کے عیبوں کی ٹٹول میں بھی لگے رہتے ہیں ۔
________________________________
1 - المستطرف فی کل فن مستظرف ، الباب السادس والثلاثون...الخ ، ۱ / ۳۳۴ دار الفکر بیروت