تھا ، وہ مسلمانوں کے جان مال اور عزت و آبرو کے مُحافِظ ہوتے تھے لہٰذا وہ کسی بھی طرح سے مسلمانوں کے عُیُوب دیکھنا ، سننا اور انہیں کسی بات پر شَرمندہ کرنا گوارا نہ کرتے جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : حضرتِ سَیِّدُنا حاتم اَصمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم بہرے نہیں تھے ( ان کے اَصم یعنی بہرہ مشہور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ )ایک عورت ان سے مسئلہ دَریافت کرنے کے لیے حاضِر ہوئی ، اِسی دَوران اس کی رِیح ( یعنی ہوا ) خارِج ہو گئی اس پر وہ بہت شَرمندہ ہوئی ۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اسے شَرمندگی سے بچانے کے لیے فرمایا : اونچی آواز سے بولو میں اونچا سنتا ہوں ، تو اس عورت نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو بہرہ گمان کیا اور خوش ہو گئی کہ انہوں نے وہ آواز نہیں سنی ہو گی ، پھر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے آپ کو اسی حال پر قائم رکھا ۔ (1 ) یعنی سب کے سامنے مستقل اسی طرح رہے کہ بظاہر اونچا سنتے یہاں تک کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اَصم یعنی بہرے مشہور ہو گئے ۔
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مَطبوعہ 552 صفحات پر مشتمل کتاب ”دِین و دُنیا کی اَنوکھی باتیں“ صفحہ 456 پر ہے : ایک شخص نے ہارون رشید کے دَربان فَضل بِن رَبیع کے نام ایک جعلی خط بنایا جس میں ایک ہزار
________________________________
1 - مرقاةُ المفاتیح ، کتاب النکاح ، باب عشرة النساء وما لکل واحدة من الحقوق ، ۶ / ۳۹۱ ، تحت الحدیث : ۳۲۴۲ دار الفکر بیروت