کوئی مصلحتِ شَرعی نہ ہو تو اس کے عیب یا بُرائی سے صَرفِ نظر کرتے ہوئے اس کی خوبیوں کی طرف نظر کیجیے کہ مومن ہمیشہ اپنے بھائی کی خوبیوں کوسامنے رکھتا ہے تاکہ اس کے دل میں اس کا اِحترام ، عزت اور محبت باقی رہے ۔ پھر بھی اگر کسی کے عُیُوب بیان کرنے کو جی چاہے تو ایک نظر اپنے گریبان میں بھی جھانک لیجیے اور اپنے عُیُوب نظر آنے پر انہیں دُور کرنے کی کوشش میں لگ جائیے کہ سرکارِ عالی وقار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مشکبار ہے : اُس شخص کے لیے خوشخبری ہے جسے اس کے عُیُوب ( پر نظر ) نے دوسروں کی عیب جوئی سے پھیر دیا ۔ (1 ) اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ایک دوسرے کی عزت و آبرو کا مُحافِظ بنائے اور عیب پوشی کی توفیق نصیب فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
یا الٰہی نامۂ اعمال جب کھلنے لگیں
عیب پوشِ خَلق ستّارِ خطا کا ساتھ ہو ( حدائقِ بخشش )
عیب پوشی کے واقعات
سُوال : مسلمانوں کی عیب پوشی کے حوالے سے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کے کچھ واقعات بیان فرما دیجیے ۔
جواب : ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کے دِلوں میں اِحترامِ مسلم کا جَذبہ ہوتا
________________________________
1 - فردوس الأخبار ، باب الطاء ، ۲ / ۴۶ ، حدیث : ۳۷۴۲ دار الفكر بيروت