Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 33: بُرائی کا بدلہ اچھائی سے دیجئے
15 - 27
حضرتِ سیِّدُنا عُقبہ بِن عامِر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے کاتِب حضرتِ سیِّدُنا ابوہیثم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے حضرتِ سیِّدُنا عُقبہ بِن عامِر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے عرض کی : ’’میرے پڑوسی شراب نوشی کرتے ہیں اورمیں پولیس کو بُلا کر انہیں گرفتار کروانا چاہتا ہوں ۔ ‘‘آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ایسا مت کر ، انہیں وَعظ و نصیحت کر ۔ عرض کی : میں نے انہیں منع کیا ہے ، لیکن وہ باز  نہیں آتے ، اب میں پولیس کے ذَرِیعے ان کو پکڑوانا چاہتا ہوں ۔  یہ سُن کر آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ایسامت کر ، بے شک میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو یہ  اِرشاد فرماتے ہوئے سُنا : جس نے کسی کا عیب چُھپایا گویا اُس نے زندہ دَرگور( یعنی قبر میں ڈالی گئی )بچّی کو اُس کی قَبر میں زندہ کیا ( یعنی اُس کی جان بچائی ) ۔ (1  )شراب پینا بے شک بَہُت بڑا اور بُرا گناہ ہے مگرجو چُھپ کر ایسا کرتا ہو اُسے نیکی کی دعوت د ے کر توبہ کے لیے آمادہ کیا جائے مگر اُس کی پردہ پوشی لازِمی ہے ۔ اَلبتہ جہاں شریعت اِجازت دیتی ہے وہاں اس کا عیب بیان کیا جا سکتا ہے ۔  
دوسروں  کی خوبیوں کی طرف نظر کیجیے 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!انسان میں جہاں بیشمار  خوبیاں ہوتی ہیں وہاں کچھ نہ کچھ  بُرائیاں بھی ہوتی ہیں لہٰذا اگر کسی مسلمان میں کوئی عیب یا بُرائی  پائیں تو  جب تک 



________________________________
1 -    الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ، ۱ / ۳۶۷ ، حدیث : ۵۱۸  دار الكتب العلمية بيروت