آئینہ اس لیے دیکھتے ہیں کہ اپنے چہرے کے چھوٹے بڑے داغ دھبے نظر آ جائیں ۔ طبیب کے پاس اسی لیے جاتے ہیں کہ وہاں علاج ہو جائے ، ایسے مومنوں کی صحبت اکسیر ہے ۔ اس لیے صوفیائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ ہمیشہ اپنے مُریدوں اور شاگردوں کے پاس نہ بیٹھو جو ہر وقت تمہاری تعریفیں ہی کرتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اپنے مُرشِدوں ، اپنے اُستادوں اور اپنے بزرگوں کے پاس بھی بیٹھو جہاں تمہیں اپنی کمتری نظر آئے ۔ ہاتھی پہاڑ کو دیکھ کر اپنی حقیقت کو پہچانتا ہے ۔ ہمیشہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی عظمتوں میں غور کیا کرو تاکہ اپنی گنہگاری اور کمتری محسوس ہوتی رہے ۔ محققین صوفیاء اس حدیث کے یہ معنیٰ کرتے ہیں کہ” مومن جب کسی مسلمان میں عیب دیکھے تو سمجھے کہ یہ عیب مجھ میں ہے جو اس کے اندر مجھے نظرآ رہا ہے جیسے آئینے میں جو داغ دھبے نظر آتے ہیں وہ اپنے چہرے کے ہوتے ہیں نہ کہ آئینے کے ۔ یہ معنیٰ نہایت عارِفانہ ہیں ۔ “اس صورت میں حدیثِ پاک میں وارد اَلفاظ”فَلْيُمِطْ عَنْهُ“کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ مومن کے ذَریعے اپنے عُیُوب معلوم کر کے انہیں دَفع کرو ۔ ( 1 )ہاں!اگر کسی کی بُرائی سے دوسروں کو نقصان پہنچنے کا اَندیشہ ہو تو اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ لوگوں کو اس کے نقصان سے بچانے کے لیے بَقَدَرِ ضَرورت صِرف اُسی بُرائی کا تذکِرہ کیا جا سکتا ہے ۔
________________________________
1 - مراٰۃ المناجیح ، ۶ / ۵۷۱ بتصرفٍ قلیلٍ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور