ہو تو آپ اس کو ”اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہٗ ، فِیْ اَمَانِ اللّٰہ“ کہہ کر اچھے اَنداز میں رُخصت کیجیے ۔ اِس طرح اُس کا دِل بَہُت خوش ہو گا اور آئندہ آپ سے مُلاقات کرنے کی طَلَب رکھے گا ۔ اگر آپ نے اس کی نفسیات کو پیشِ نظر نہ رکھا اور اس کے اِضطراب کے باوجود اسے بِٹھائے رکھا تو آئندہ وہ آپ کو دیکھتے ہی گلی بدل لے گا ۔
”مدنی اِنعامات و مدنی قافلہ کورس“کرنے میں نیت
سُوال : ”مدنی اِنعامات و مدنی قافلہ کورس“کرنے میں کیا نیت ہونی چاہیے ؟
جواب : ”مدنی اِنعامات و مدنی قافلہ کورس“بے شمار نیک اَعمال سیکھنے اور سکھانے کا ذَریعہ ہے لہٰذا اِس میں ضَرور اچھی اچھی نیتیں کر لینی چاہییں کہ بغیر اچھی نیت کے کسی بھی عملِ خیر کا ثواب نہیں ملتا ۔ پھر جتنی اچھی نیتیں زیادہ ہوں گی اُتنا ہی ثواب بھی زیادہ ہو گا ۔ اس کو اس مثال سے سمجھیے کہ آپ پانی میں چینی مِلا دیں تو وہ شربت بن جائے گا ۔ اگر اس میں کچھ اور چیزیں مثلاًبادام ، پستہ ، دُودھ اور بَرف وغیرہ ڈال دیں تو اس کی عُمدگی اور ذائقے میں مَزید بہتری آ جائے گی ، جس طرح چینی کے شَربت میں زیادہ چیزیں ڈالنے سے اس کی لذّت اور عُمدگی میں اِضافہ ہوجاتا ہے ایسے ہی نیک اَعمال میں نیتوں کی زیادتی ثواب میں اِضافے کا باعِث ہوتی ہے ۔ بہرحال ”مدنی اِنعامات و مدنی قافلہ کورس“ میں سب سے پہلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا حاصِل کرنے کی نیت ہونی چاہیے ۔ اس