Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 30:دِل جیتنے کا نُسخہ
40 - 41
 مَحسُوس  کیا جاتا ہے ۔ اِس طرح کے کئی واقعات ہیں کہ وہ اسلامی بھائی جو بَرسوں سے مدنی ماحول سے وابستہ تھے ان کے کسی عزیز کے وفات  پانے پر  ذِمَّہ دار اسلامی بھائیوں کی  شِرکت نہ کرنے کی وجہ سے وہ مدنی ماحول سے دُور  ہو گئے ۔ پنجاب کے ایک شہر سے مجھے مکتوب مَوصُول ہوا جس میں مکتوب بھیجنے والے اسلامی بھائی نے لکھا تھا کہ میرے والِد صاحب  کا اِنتقال ہوا تو میں نے  علاقے کے ذِمَّہ دار کو اِطِّلاع بھی دی مگر پھر بھی ذِمَّہ دار تو کیا کسی ایک اسلامی بھائی نے بھی شِرکت نہیں کی ۔ میرا دِل آپ لوگوں کی طرف سے بالکل ٹُوٹ چُکا ہے ، اب میرا آپ لوگوں سے کوئی تَعلُّق نہیں ۔ 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ ایک اسلامی بھائی کے والِد صاحب کے فوت ہونے پر اسلامی بھائیوں کے شِرکت نہ کرنے کے سبب اس کا دِل ٹُوٹ گیا اور وہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے دُور ہو گیا ۔ ہر اسلامی بھائی کو ایک دوسرے کے دُکھ  دَرد اور غَمی خُوشی میں شَریک ہونا چاہیے ۔ اگر کوئی اسلامی بھائی بیمار پڑ جائے  تو اس کی عِیادَت کیجیے ، اس  کا کوئی عَزیز فوت ہو جائے اور کوئی شَرعی مَجبُوری نہ ہو تو ضَرور شِرکت کیجیے ۔ غَمی کے مَواقع پر مَذہَبی لوگوں کی زیادہ ضَرورت ہوتی ہے عموماً اس پر توجُّہ نہیں دی جاتی  ۔ نمازِ جنازہ کے علاوہ تَدفِین ، تَلقِین وغیرہ کے مَواقع پر بھی مَذہَبی لوگوں کی ضَرورت پڑتی ہے ۔ 
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے قیام  سے قبل اور اس کے اَوائل میں بھی