کے بیٹے ! تو مسلمان ہو جا ۔ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بہ آواز بُلند کہا : ”اَشْہَدُ اَن لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّکَ رَسُوْلُ اللہ“حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے خُوشی سے نَعرہ تکبیر بُلند فرمایا اور تمام حاضِرین نے اس زور سے اَللہُ اَکْبَر کا نَعرہ مارا کہ مکۂ مکرَّمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کی پہاڑیاں گُونج اُٹھیں ۔ ( 1)
نبیٔ رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اِس پیاری پیاری سُنَّت کو اَدا کرتے ہوئے ہمارے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان و بُزُرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن نے بھی ”اِنفرادی کوشش“ کو جاری رکھا اور دِینِ اِسلام کے پیغام کو دُنیا بھر میں عام کیا ۔ اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اِیمان لاتے ہی اِسلام کی دَعوت پیش کرنا شروع کر دی ۔ آپ کی ”اِنفرادی کوشش“ سے وہ پانچ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی اَیمان سے مُشَرَّف ہوئے جو عَشَرَۂ مبشرہ میں داخِل ہیں ۔ جن کے اَسمائے گرامی یہ ہیں : ( 1 )حضرتِ سَیِّدُنا زُبیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ( 2 )اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عُثمان بِن عَفَّانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ( 3 ) حضرتِ سَیِّدُنا طَلحَہ بِن عُبَیْدُ اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ( 4 ) حضرتِ سَیِّدُنا سَعدبِن اَبی وَقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ( 5 ) حضرتِ سَیِّدُنا عبدُالرحمٰن بِن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ۔ ( 2 )
________________________________
1 - شرح الزرقانی ، اسلام الفاروق ، ۲ / ۵ تا ۸ ملخصاً دار الکتب العلمیة بیروت
2 - البدایة والنھایة ، فصل فی ذکر أول من أسلم...الخ ، ۲ / ۳۶۸ ملخصاً دار الفکر بیروت