Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 30:دِل جیتنے کا نُسخہ
36 - 41
 پڑی : ( سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱) ) ( پ۲۷ ، الحدید : ۱ ) ترجمۂ کنز الایمان :  ”اللہ  کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے  اور وہی عزّت و حِکمت والا ہے ۔ “ اس آیت کا ایک ایک لفظ صَداقت کی تاثیر کا تیر بن کر دِل کی گہرائی میں پَیوَست ہوتا چلا گیا اور جِسم کا ایک ایک بال لَرزَہ بَراَندام ہونے لگا ۔ جب اس آیت پر پہنچے : ( اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ )( پ۲۷ ، الحدید : ۷ )  ترجمۂ کنز الایمان :  ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ ۔ “تو بالکل ہی بے قابو ہو گئے اور بے اِختیار پُکار اُٹھے :  ”اَشْہَدُ اَن لَّا  اِلٰہَ  اِلَّا اللہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ“اس وقت حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم حضرتِ سَیِّدُنا اَرقمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مکان میں تشریف فرما تھے حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہن کے گھر سے نکلے اور سیدھے حضرتِ سَیِّدُنا اَرقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مکان پر پہنچے تو دَروازہ بند پایا ، کُنڈی بجائی ، اَندر کے لوگوں نے دَروازہ کی جِھری سے جھانک کر دیکھا تو حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ننگی تلوار لیے کھڑے تھے ۔ لوگ گھبرا گئے اور کسی میں دَروازہ کھولنے کی ہِمَّت نہ ہوئی مگر حضرتِ سَیِّدُنا حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بُلند آواز سے فرمایا : دَروازہ کُھول دو اور اندر آنے دو اگر نیک نیتی کے ساتھ آیا ہے تو اس کا خَیرمَقدَم کیا جائے گا ورنہ اسی کی تلوار سے اس کی گردن اُڑا دی جائے گی ۔ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اَندر قدم رکھا تو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے خود آگے بڑھ کر حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بازو پکڑا اور فرمایا : اے خَطاب