گرمی میں ننگی تلوار لے کر کہاں چلے ؟ کہنے لگے کہ آج بانئ اِسلام کو شہید کرنے کے لیے گھر سے نکل پڑا ہوں ۔ انہوں نے کہا : پہلے اپنے گھر کی خبر لو ۔ تمہاری بہن ”فاطمہ “اور تمہارے بہنوئی ”سعید بن زید“ بھی تو مسلمان ہو گئے ہیں ۔ یہ سُن کر آپ بہن کے گھر پہنچے اور دَروازہ کھٹکھٹایا ۔ گھر کے اَندر چند مُسلمان چُھپ کر قُرآن پڑھ رہے تھے ۔ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی آواز سُن کر سب لوگ ڈر گئے اور قُرآن کے اَوراق چھوڑ کر اِدھر اُدھر چُھپ گئے ۔ بہن نے اُٹھ کر دَروازہ کھولا تو حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ چِلّا کر بولے : اے اپنی جان کی دُشمن! کیا تو بھی مُسلمان ہو گئی ہے ؟پھر اپنے بہنوئی حضرتِ سَیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر جھپٹے اور ان کی داڑھی پکڑ کر ان کو زمین پر پَٹَخ دیا اور سینے پر سُوار ہو کر مارنے لگے ۔ ان کی بہن حضرتِ سَیِّدَتنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اپنے شوہر کو بچانے کے لئے دوڑ پڑیں تو حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان کو ایسا طَمانچہ مارا کہ ان کا چہرہ خُون سے لَہُو لہان ہو گیا ۔ بہن نے صاف صاف کہہ دیا : اے عمر! سُن لو ، تم سے جو ہو سکے کر لو مگر اب اِسلام دِل سے نہیں نکل سکتا ۔ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بہن کا خُون آلودہ چہرہ دیکھا اور ان کا عَزم و اِستقامت سے بھرا ہوا یہ جُملہ سُنا تو ان پر رِقَّت طاری ہو گئی اور ایک دَم دِل نرم پڑ گیا ۔ تھوڑی دیر تک خاموش کھڑے رہے ۔ پھر کہا : اچھا تم لوگ جو پڑھ رہے تھے مجھے بھی دکھاؤ ۔ بہن نے قُرآن کے اَوراق سامنے رکھ دیئے ۔ ان کی نظر جب اس آیت پر