مصطفے ٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ”اِنفرادی کوشش“ فرمائی ۔ حج کے موقع پر ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بَنَفسِ نَفِیس مِنیٰ شریف کے خیموں میں تشریف لے جا کر نیکی کی دعوت اِرشاد فرماتے ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی ”اِنفرادی کوشش“ سے کئی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ایمان کی دولت سے مُشَرَّف ہوئے مثلاً ”مَردوں میں سب سے پہلے اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدّیقرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اِیمان لائے ، عورتوں میں اُمُّ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتنا خَدیجۃُ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اِیمان لائیں ، بچّوں میں سب سے پہلے اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ ، شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اِیمان لائے ۔ (1 )
اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی اپنی بہن ، بہنوئی اور سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی ”اِنفرادی کوشش“سے مُشَرَّف بہ اِسلام ہوئے ۔ ”آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک دن غصّہ میں بھرے ہوئے ننگی تلوار لے کر اس اِرادہ سے چلے کہ آج میں اسی تلوار سے پیغمبرِ اِسلام کو شہید کر دوں گا ۔ اِتفاق سے راستہ میں حضرتِ سَیِّدُنا نعیم بن عبدُ اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مُلاقات ہو گئی ۔ یہ مسلمان ہو چکے تھے مگر حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ان کے اِسلام کی خبر نہیں تھی ۔ انہوں نے پوچھا : اے عمر! اس دوپہر کی
________________________________
1 - تاریخ الخلفاء ، ص۲۶ ملخصاً بابُ المدینه کراچی