Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 30:دِل جیتنے کا نُسخہ
33 - 41
 اُسے دِلاسا دیں ، اپنے مُنہ سے ایسے اَلفاظ ادا کریں جو اُس کے لیے تسکین اور حَوصَلہ اَفزا ئی کا سامان کریں اور اُس کی والدہ کی صحتیابی کے لیے دُعا کیجیے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی والدہ کو شِفا عطا فرمائے اور آپ کی ہر پریشانی دُور  فرمائے ۔ پھر اس کو مدنی مَشورہ دیجیے کہ آپ اپنی امّی جان کی صحتیابی کے لیے راہِ خدا میں سفر کرنے والے عاشِقانِ رسول کے ہَمراہ سُنَّتوں کی تربیت کے مدنی قافلوں میں سفر کر کے دُعا  مانگیے کہ مُسافِر کی دُعا قبول ہوتی ہے جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے : تین قسم کی دُعائیں مستجاب ( یعنی مقبول )ہیں ، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں : ( ۱ )مَظلُوم کی دُعا ( ۲ ) مُسافِر کی دُعا ( ۳ ) باپ کی اپنے بیٹے کے ليے دُعا ۔ (1  ) 
ماں جو بیمار ہو یا وہ ناچار ہو
رَنج وغم مَت کریں قافِلے میں چلو
ربّ کے دَر پر جھکیں اِلتجائیں کریں
بابِ رَحمت کھلیں قافِلے  میں چلو	( وسائلِ بخشش )
 ”اِنفرادی کوشش“ کرنا سُنَّت ہے 
سُوال : کیا  ”اِنفرادی کوشش“ کرنا ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ثابت ہے ؟
جواب : جی ہاں! تمام اَنبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور خود ہمارے پیارے آقا ، مکی مَدَنی 



________________________________
1 -    ترمذی ، کتاب  الدعوات ، باب  ما ذکر  فی  دعوة  المسافر ، ۵ / ۲۸۰ ، حدیث : ۳۴۵۹   دار الفکر بیروت