کی بات نہیں جبکہ ”اِنفرادی کوشش“ بچّہ ، بوڑھا ، جوان وغیرہ سبھی کر سکتے ہیں خواہ انہیں بیان کرنا آتا ہو یا نہ آتا ہو ۔
”اِنفرادی کوشش“ کرنے کا طریقہ
سُوال : ”اِنفرادی کوشش“ کرنے کا طریقہ بھی اِرشاد فرما دیجیے ۔
جواب : ”اِنفرادی کوشش“ کرنے والے کے لیے مِلنسار اور غمخوار ہونا بَہُت ضَروری ہے کیونکہ مِلنساری اور غمخواری ”اِنفرادی کوشش “کی جان ہے ۔ اگر مِلنساری نہیں ہو گی تو پھر ”اِنفرادی کوشش“ کرنے میں کَمَا حَقُّہٗ کامیابی حاصِل نہیں ہو سکتی ۔ یوں سمجھیے کہ ”اِنفرادی کوشش“ کرنا شربت تیار کرنے کی طرح ہے ۔ اس میں شہد جیسی مِٹھاس ہونی چاہیے ، مُسکراہٹ کے پستے اور بادام بھی ڈالنے ہوں گے ، اگر کوئی مانِعِ شَرعی نہ ہو تو سامنے والے کو گلے لگا کر تھپکی بھی دینی ہو گی ۔ اَلغرض حِکمتِ عملی کے ساتھ ایسی ” اِنفرادی کوشش“ کی جائے کہ سامنے والا مُتأثر ہو کر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو جائے ۔
اِسی طرح ”اِنفرادی کوشش“ کرنے والے کو موقع محل کی مُناسبت سے مِلنسار ہونے کے ساتھ ساتھ غمخوار بھی ہونا چاہیے ۔ ”اِنفرادی کوشش“ کے دَوران اگر بالفرض کسی کو اُداس دیکھیں یا اُس سے پریشانی کی خبر سنیں تو فوراً آپ کے چہرے پر اُداسی اور غم کے آثار نَمُودار ہو جانے چاہئیں ، مثلاً سامنے والا کہتا ہے کہ میری ماں بیمار ہے ، ڈاکٹروں نے کینسر کی نِشاندہی کی ہے تو آپ کو چاہیے کہ